Posts

Showing posts from January, 2025

مہنگائی کا درد: کون سنے؟

Image
تحریر: چوہدری محمد احسان کھنڈوعہ (نوائے سحر) یہ قصہ صرف میرا نہیں، بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو مہنگائی کے ہاتھوں بے بس ہو چکا ہے۔ روزانہ کی محنت کے باوجود جب گھر کی دہلیز پر بچوں کی بھوک کے سوال کھڑے ہوں، تو دل میں وہ بے بسی پیدا ہوتی ہے، جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ آج آٹے، چینی، دالیں، اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ حکومت کے وعدے اور اعداد و شمار کی بازیگری شاید ان حکمرانوں کے لیے باعثِ سکون ہو، مگر میرے جیسے انسان کے لیے ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ اللہ کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے ہم نے اپنی زندگی کے وسائل کو محدود کر لیا ہے، غیر ضروری اخراجات کم کر دیے ہیں، اور اپنی دعاؤں میں سکون ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یقیناً، "اللہ وہی دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہو، اور کبھی بھی مایوسی کو ہمارے دلوں میں جگہ نہیں دیتا۔" لیکن سوال یہ ہے کہ کب تک؟ کیا ہم یوں ہی بے بس رہیں گے؟ ہمیں خود انفرادی سطح پر مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ معاشرے کی بھلائی کے لیے حکومت کو جواب دہ بنانا ہوگا، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی عزت و وقار سے جی سکیں۔ ...

مہنگائی کا درد: کون سنے؟

Image
تحریر: چوہدری محمد احسان کھنڈوعہ (نوائے سحر) یہ قصہ صرف میرا نہیں، بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو مہنگائی کے ہاتھوں بے بس ہو چکا ہے۔ روزانہ کی محنت کے باوجود جب گھر کی دہلیز پر بچوں کی بھوک کے سوال کھڑے ہوں، تو دل میں وہ بے بسی پیدا ہوتی ہے، جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ آج آٹے، چینی، دالیں، اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ حکومت کے وعدے اور اعداد و شمار کی بازیگری شاید ان حکمرانوں کے لیے باعثِ سکون ہو، مگر میرے جیسے انسان کے لیے ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ اللہ کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے ہم نے اپنی زندگی کے وسائل کو محدود کر لیا ہے، غیر ضروری اخراجات کم کر دیے ہیں، اور اپنی دعاؤں میں سکون ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یقیناً، "اللہ وہی دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہو، اور کبھی بھی مایوسی کو ہمارے دلوں میں جگہ نہیں دیتا۔" لیکن سوال یہ ہے کہ کب تک؟ کیا ہم یوں ہی بے بس رہیں گے؟ ہمیں خود انفرادی سطح پر مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ معاشرے کی بھلائی کے لیے حکومت کو جواب دہ بنانا ہوگا، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی عزت و وقار سے جی سکیں۔ ...

A Detailed Overview of Dandot RS: From the Perspective of Ehsan Khandwa

Image
Dandot RS, also known as Dandot, is a historical place located on the border of Jhelum and Chakwal districts. This region holds significant importance due to its unique history and culture. Coal Mining and the Establishment of the Railway Station Dandot gained early prominence because of the coal mines in the area. A 10-kilometer-long narrow-gauge (610 mm) railway line was laid to transport coal, which was a major trade activity. This railway station, locally referred to as "Kala Tushan," was established in 1905. The name originated from the coal-rich mountains, where coal was extracted and then transported via trolleys to be sent for trade. Establishment of the Cement Factory and Industrial Development In the 1930s, Seth Ram Krishna Dalmia established a cement factory in the Dandot area, marking the beginning of industrial development in the region. Prior to this, the area was known mainly for its coal mines, with a small mining population and an economy dependent on mining....