مہنگائی کا درد: کون سنے؟

تحریر: چوہدری محمد احسان کھنڈوعہ (نوائے سحر) یہ قصہ صرف میرا نہیں، بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو مہنگائی کے ہاتھوں بے بس ہو چکا ہے۔ روزانہ کی محنت کے باوجود جب گھر کی دہلیز پر بچوں کی بھوک کے سوال کھڑے ہوں، تو دل میں وہ بے بسی پیدا ہوتی ہے، جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ آج آٹے، چینی، دالیں، اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ حکومت کے وعدے اور اعداد و شمار کی بازیگری شاید ان حکمرانوں کے لیے باعثِ سکون ہو، مگر میرے جیسے انسان کے لیے ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ اللہ کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے ہم نے اپنی زندگی کے وسائل کو محدود کر لیا ہے، غیر ضروری اخراجات کم کر دیے ہیں، اور اپنی دعاؤں میں سکون ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یقیناً، "اللہ وہی دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہو، اور کبھی بھی مایوسی کو ہمارے دلوں میں جگہ نہیں دیتا۔" لیکن سوال یہ ہے کہ کب تک؟ کیا ہم یوں ہی بے بس رہیں گے؟ ہمیں خود انفرادی سطح پر مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ معاشرے کی بھلائی کے لیے حکومت کو جواب دہ بنانا ہوگا، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی عزت و وقار سے جی سکیں۔ ...