پنڈ دادن خان: تاریخ اور نام کی حقیقت
پنڈ دادن خان، ضلع جہلم کی ایک قدیم تحصیل، تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس کا نام دو حصوں پر مشتمل ہے: "پنڈ" اور "دادن خان"۔ پنجاب میں "پنڈ" کا مطلب دیہات یا بستی ہوتا ہے، اور پرانے وقتوں میں کئی علاقوں کو وہاں کے نمایاں افراد یا قبائل کے ناموں سے منسوب کیا جاتا تھا۔ اس لیے "پنڈ دادن خان" کا مطلب دادن خان کے نام سے منسوب ایک بستی یا گاؤں ہے۔
دادن خان ایک معروف اور بااثر راجپوت شخصیت تھے، جنہوں نے اس علاقے میں قیام کیا اور اپنی اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ علاقہ ان کے نام سے جانا جانے لگا۔ آج بھی ان کا مزار پنڈ دادن خان میں موجود ہے، جو ان کی تاریخی حیثیت کا ثبوت ہے۔
راجہ غضنفر علی خان بھی اسی علاقے کی ایک نامور شخصیت تھے، جنہوں نے تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور قیام پاکستان کے بعد حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی قبر بھی دردن خان کے مزار میں ہی موجود ہے، جو اس جگہ کی تاریخی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے۔
کچھ لوگ اس نام کی مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں، لیکن موجودہ مزار، مقامی شواہد اور مستند تاریخی ذرائع یہ ثابت کرتے ہیں کہ پنڈ دادن خان واقعی ایک تاریخی شخصیت "دادن خان" کے نام پر رکھا گیا تھا۔
پنڈ دادن خان تاریخی ورثے اور نامور شخصیات کی سرزمین ہے۔ یہ علاقہ نہ صرف دادن خان جیسے معزز بزرگ کی شناخت رکھتا ہے بلکہ تحریکِ پاکستان کے ہیرو راجہ غضنفر علی خان کی آخری آرام گاہ بھی یہی ہے۔ اس تحصیل کا نام، تاریخ اور مقامی شواہد سب اس کی ثقافتی اور تاریخی حیثیت کو ثابت کرتے ہیں۔
چوہدری محمد احسان کھنڈوعہ
Comments
Post a Comment