پنڈ دادن خان: ترقی کی راہ میں رکاوٹیں اور ممکنہ حل

تحریر: چوہدری محمد احسان کھنڈوعہ پنڈ دادن خان تحصیل اپنی تاریخی، صنعتی اور زراعتی حیثیت کے باوجود آج بھی تقریبا بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ جہاں اس علاقے میں بے پناہ قدرتی وسائل موجود ہیں، وہیں ترقیاتی کاموں میں سست روی، ذرائع آمدورفت کی زبوں حالی، سیوریج سسٹم کا ناقص نظام، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، تعلیمی اداروں کے سفری مسائل، اور مقامی کسانوں کی مشکلات سرفہرست شامل ہیں۔ یہ تحصیل صنعتی لحاظ سے بھی نمایاں مقام رکھتی ہے، کیونکہ یہاں چند بڑے صنعتی ادارے روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ لکی سوڈا ایش پلانٹ کھیوڑہ روزگار کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ڈنڈوت سیمنٹ اور غریب وال سیمنٹ فیکٹروں جیسے ادارے بھی مقامی افراد کو کسی نہ کسی حد تک ملازمتیں فراہم کرنے میں معاون کردار نبھا رہے ہیں۔ تاہم، یہ صنعتیں تحصیل بھر کے بےروزگار نوجوانوں کی تعداد کے مقابلے میں بہت کم افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ فیکٹریوں کے علاوہ اس تحصیل میں پلاسٹک آف پیرس، بلاکس اور دیگر چھوٹے پیمانے کی فیکٹریاں بھی قائم ہیں، جو مقامی سطح پر روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ اگر حکومت اور سرمایہ کار ان صنعتوں کو فروغ دیں، ان کی پیداوار میں اضافہ کریں اور نئی چھوٹی صنعتوں کے قیام میں مدد کریں، تو اس پسماندہ تحصیل میں روزگار کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جو پرائیویٹ انڈسٹریاں پہلے سے قائم ہیں، ان پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو ملازمت کے مواقع فراہم کریں۔ کئی بےروزگار افراد ہنر مند ہیں لیکن کام نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اگر ان صنعتوں میں روزگار کی گنجائش بڑھائی جائے تو نہ صرف انڈسٹری کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے گھروں کے چولہے بھی جل سکیں گے۔ نجی صنعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ مقامی ہنر مند افراد کو زیادہ سے زیادہ ملازمتیں فراہم کریں، تاکہ بےروزگار طبقے کو روزگار میسر آ سکے اور ان کے گھروں کے چولہے جل سکیں۔ پنڈ دادن خان تحصیل کا ایک سب سے بڑا مسئلہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بھی ہے۔ زیادہ تر دیہی علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے، جس کے باعث یہ علاقہ ترقی کے بجائے مزید پیچھے جا رہا ہے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ جدید طریقے اپنا کر نئے واٹر سپلائی منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کے نئے ذرائع بھی تلاش کرے، تاکہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ادھر تعلیمی اداروں کی کمی اور جو موجود ہیں ان میں بچوں کو سفری سہولیات کے فقدان کا بھی سامنا ہے یہی وجہ ہے کہ طلبہ کو اسکول اور کالجز پہنچنے میں جہاں مشکلات کا سامنا ہے وہیں ان کے والدین کی جیبوں پر بھی بوجھ ہے۔ دیہی علاقوں کے بچوں کے لیے مناسب سفری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت اگر الیکٹرک بسوں کا منصوبہ بنائے یا تعلیمی اداروں کے لیے مخصوص ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف کرائے تو والدین پر اضافی مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے اور طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے میں آسانی بھی رہے گی۔ پنڈ دادن خان کی معیشت میں زراعت ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن مقامی کسان کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ پانی کی کمی، کھاد اور بیج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت فصلوں کی مناسب پذیرائی نہ ملنا ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی، سبسڈی، اور بہتر منڈیوں کی فراہمی پر توجہ دے تاکہ مقامی زراعت کو فروغ ملے اور کسان خوشحال ہو سکیں۔ یہ تمام مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں، کیونکہ ترقی محض دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہوتی ہے۔ منتخب عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی اختیار کریں۔ اگر حکومت اور مقامی انتظامیہ اس حوالے سے مخلص کوششیں کرے تو یہ تحصیل ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ پنڈ دادن خان میں قدرتی وسائل، صنعتیں، اور زراعت سب کچھ موجود ہے، لیکن ان سے مکمل فائدہ نہ اٹھایا جانا ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک جامع ترقیاتی منصوبہ بنایا جائے تاکہ علاقے کو اس کا جائز مقام دلایا جا سکے اور یہاں کے عوام بھی بہتر معیارِ زندگی حاصل کر سکیں۔ غازیوں اور شہیدوں کی دھرتی اپنا کھویا وقار اور مقام مانگتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Khandoya Tribe

Sardaar Khan Khandowa Father Anar Khan Havilder of the Khandowa Tribe New Pakistan

Chaudhry Anar Khan Khandowa: The Story of a Military Hero and Community Benefactor